امریکا میں اے آئی انقلاب سے دولت میں اضافہ، مہنگائی نے عام شہریوں کو مشکل میں ڈال دیا
امریکا میں مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری سے گھرانوں کی مجموعی دولت 26 ٹریلین ڈالر بڑھی، مگر امیر ترین ایک فیصد کا حصہ بڑھنے کے ساتھ مہنگائی اور مکان خریدنے کے اخراجات عام شہریوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
Raja Awais Ali
10/12/20261 min read


امریکا میں دولت کی ریکارڈ بڑھوتری اور مہنگائی کا دباؤ، اے آئی انقلاب کے فوائد زیادہ تر امیر طبقے کو
امریکا کی معیشت اس وقت ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ کے منافع نے گھرانوں کی مجموعی دولت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن عام شہریوں کو مہنگائی، مکان خریدنے کی بڑھتی لاگت اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ کا سامنا ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی معاشی صورت حال ایک اہم تضاد کو نمایاں کرتی ہے: ملک کی مجموعی دولت بڑھ رہی ہے، مگر اس کے فوائد تمام امریکی گھرانوں تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے۔
مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ سسٹمز اور دیگر ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کی تعمیر امریکا میں سرمایہ کاری کی ایک بڑی لہر پیدا کر رہی ہے۔ اس توسیع کا حجم ماضی کے ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب سے بھی بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ اس کا موازنہ ریلوے اور شاہراہوں جیسے بڑے قومی انفراسٹرکچر منصوبوں سے کیا جا رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص اور اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دیا ہے، جس سے ان گھرانوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے جن کے پاس پہلے سے مالی اثاثے موجود ہیں۔ تاہم، تنخواہوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے اس تیزی کے فوائد نسبتاً محدود محسوس ہو سکتے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار کے مطابق، سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اختتام سے لے کر 2026 کی دوسری سہ ماہی تک قومی دولت میں اپنے حصے کے لحاظ سے صرف امیر ترین ایک فیصد گھرانوں نے اضافہ کیا۔ باقی 99 فیصد گھرانوں کا قومی دولت میں حصہ نسبتاً کم ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کے مالی فوائد کا بڑا حصہ ان افراد کو ملا جن کے پاس پہلے ہی حصص، سرمایہ کاری اور دوسرے اثاثے موجود تھے۔
اس کے باوجود دولت میں اضافہ صرف امیر ترین طبقے تک محدود نہیں رہا۔ بائیڈن انتظامیہ کے اختتام سے 2026 کے وسط تک امریکی گھرانوں کی مجموعی دولت میں 16.5 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً 26 ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔ کم دولت رکھنے والے نصف امریکی گھرانوں کو اس اضافے میں سے نصف ٹریلین ڈالر سے بھی کم رقم ملی، لیکن ان کی دولت میں بھی تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔ اس طرح مجموعی دولت بڑھنے کے باوجود اس کے فوائد کی تقسیم میں نمایاں فرق برقرار رہا۔
یہ صورت حال امریکی معیشت کے مستقبل سے متعلق ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے: کیا مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی ترقی عام شہریوں کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنا سکے گی؟ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور کمپنیوں کی بڑھتی مالیت معاشی سرگرمی کو سہارا دے سکتی ہے، لیکن اس سے ہر گھرانے کی آمدنی یا قوتِ خرید میں لازماً اضافہ نہیں ہوتا۔
امریکی صارفین مجموعی طور پر اشیا اور خدمات پر زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔ موجودہ ڈالر کے حساب سے گھریلو اخراجات میں اضافہ وبا سے پہلے کے مقابلے میں بھی تیز ہے، لیکن مہنگائی کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی اخراجات کی شرح نمو تقریباً اسی سطح پر ہے جو وبا سے پہلے تھی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی جانب سے خرچ کی جانے والی اضافی رقم کا ایک بڑا حصہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے استعمال ہو رہا ہے، نہ کہ لازماً زیادہ اشیا اور خدمات خریدنے پر۔
معاشی ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکا میں اخراجات کی صورت حال ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتی ہے جس میں امیر گھرانوں کی خریداری مضبوط ہے، جبکہ کم آمدنی والے خاندان زیادہ دباؤ میں ہیں۔ اس حوالے سے مختلف مطالعات کے نتائج یکساں نہیں ہیں۔ بڑے بینکوں اور رچمنڈ فیڈرل ریزرو کی تحقیق کے مطابق کم آمدنی اور کم دولت رکھنے والے گھرانوں کے اخراجات بھی مجموعی طور پر برقرار ہیں۔ نیویارک فیڈرل ریزرو کے گھریلو قرضوں سے متعلق مطالعات میں بھی اب تک کم خوش حال طبقے میں وسیع پیمانے پر قرضوں کے بحران کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ تاہم، اخراجات کا برقرار رہنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ خاندان مہنگائی کے دباؤ سے محفوظ ہیں۔
عام شہریوں کے لیے مہنگائی کا اثر روزمرہ ضروریات میں زیادہ واضح ہوتا ہے۔ گائے کے گوشت سمیت کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں اور مکان کی ملکیت حاصل کرنے کی لاگت گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ مالی اثاثے رکھنے والے افراد کو اسٹاک مارکیٹ کی تیزی سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن وہ خاندان جو بنیادی طور پر تنخواہوں پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے قیمتوں میں اضافہ آمدنی کا زیادہ حصہ استعمال کر سکتا ہے۔
مکان خریدنے کا معاملہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس کے لیے اکثر طویل مدتی قرض درکار ہوتا ہے۔ جب قرض کی شرح سود بلند ہو تو خریداروں کو زیادہ ماہانہ اقساط ادا کرنا پڑ سکتی ہیں، جس سے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے ملکیت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتی دولت اور رہائشی اخراجات کا دباؤ بیک وقت موجود رہ سکتے ہیں، چاہے مجموعی معیشت میں سرمایہ کاری اور اخراجات کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
امریکی معیشت میں اس تضاد کا سیاسی اثر بھی اہم ہے۔ نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے مہنگائی، رہائش اور روزمرہ اخراجات ووٹرز کے لیے اہم معاملات ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی معاشی ترقی کی مثبت تصویر پیش کر سکتی ہے، لیکن عوام اپنی معاشی حالت کا اندازہ اس بنیاد پر بھی لگاتے ہیں کہ ان کی تنخواہ سے کتنی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور مستقبل کے اخراجات برداشت کرنا کتنا ممکن ہے۔ اگر مجموعی دولت میں اضافے کے باوجود قوتِ خرید میں واضح بہتری محسوس نہ ہو تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن امیدواروں کے لیے معاشی کارکردگی کا دفاع کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر امریکا میں مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ کی تیزی نے قومی دولت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن امیر ترین ایک فیصد گھرانوں کا دولت میں بڑھتا حصہ اور عام شہریوں پر مہنگائی کا دباؤ معیشت کے دو مختلف رخ سامنے لاتے ہیں۔ 2026 کے وسط تک گھرانوں کی مجموعی دولت میں 16.5 فیصد، یعنی تقریباً 26 ٹریلین ڈالر کا اضافہ اس ترقی کا واضح پیمانہ ہے، جبکہ کم دولت رکھنے والے نصف گھرانوں کو اس اضافے میں نصف ٹریلین ڈالر سے بھی کم حصہ ملا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی معاشی ترقی مستقبل میں عام امریکیوں کی حقیقی آمدنی، قوتِ خرید اور رہائش تک رسائی میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔
Stay informed with the latest national and international news.
© 2026. All rights reserved.
