ٹرمپ کی توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی، یوکرین کا روس پر الزام، یورپی یونین کی 1,600 نئی پابندیاں
یوکرین نے خارکیف کے تھرمل پاور پلانٹ پر حملے کے بعد روس پر ٹرمپ کی توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ یورپی یونین نے روس کی فوجی صنعت کے خلاف تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی۔
Raja Awais Ali
10/12/20261 min read


یوکرین کا روس پر توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، یورپی یونین کی تقریباً 1,600 نئی پابندیاں
12 اکتوبر 2026 کو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت نیا دھچکا لگا جب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے باوجود روس نے یوکرین کے شہر خارکیف میں تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ زیلنسکی نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کو کسی بھی طے شدہ معاہدے کی پابندی کرنے کا پابند بنائے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے روس کی فوجی اور دفاعی صنعت پر دباؤ بڑھانے کے لیے تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی، جس سے جنگ بندی کے اعلان اور مغربی ممالک کی حکمت عملی پر نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ تاہم، یوکرین کا کہنا ہے کہ اسے اس معاہدے کی تفصیلات براہ راست فراہم نہیں کی گئیں۔ زیلنسکی کے مطابق، انہیں اس پیش رفت کا علم ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہوا اور وہ اب بھی امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والی شرائط کی وضاحت کے منتظر ہیں۔ روس کی جانب سے بھی اس اعلان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
زیلنسکی نے وارسا میں ایک کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق، یوکرین نے گزشتہ رات روسی آئل ریفائنریوں پر کوئی حملہ نہیں کیا، لیکن روس کو بھی یوکرین کے توانائی نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا سنجیدگی سے مداخلت کرے اور روس کو جنگ بندی کی پابندی کرنے پر آمادہ کرے تو یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم بن سکتا ہے۔
خارکیف میں حملوں کے اثرات شہری آبادی پر بھی پڑے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، اتوار کو روسی حملوں میں دو مختلف شہروں میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ خارکیف میں امدادی کارکن روسی ڈرون حملے سے متاثرہ رہائشی عمارت کے ملبے میں تلاش کا کام کرتے رہے۔ مقامی رہائشی ناتالیہ منکا نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ پناہ گاہ پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھیں، لیکن اس کے قریب میزائل حملہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تھرمل پاور پلانٹ نمبر 5 کو نشانہ بنتے اور جلتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق، یہ منظر انتہائی خوف ناک تھا اور حملے کے بعد ایک خاندان کو شدید صدمے سے گزرتے دیکھنا مشکل تھا۔ خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے بتایا کہ پیر کی صبح شہر پر روسی حملوں میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔
کیف میں بھی شہریوں نے جنگ بندی کے اعلان پر شکوک کا اظہار کیا۔ 37 سالہ سرکاری ملازم ویرا کے مطابق، روس کے ساتھ مذاکرات میں فیصلے تو ہوجاتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کی ضمانت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کسی اعلان کے بعد فوری طور پر امن قائم ہوجائے گا۔ یوکرین میں شہریوں کی یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے بجلی اور حرارت کی فراہمی کو متاثر کرسکتے ہیں، جبکہ ملک پہلے ہی طویل جنگ کے اثرات برداشت کر رہا ہے۔
یورپی یونین نے روس کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بتایا کہ ان پابندیوں میں نصف سے زیادہ کا تعلق بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے سلسلے سے ہے۔ ان اقدامات کا مقصد روس کی فوجی اور دفاعی صنعت کو درکار پیداوار اور رسد محدود کرنا ہے۔ کالاس نے کہا کہ امریکا کو بھی روس کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ برقرار رہے۔
لکسمبرگ میں یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کالاس نے کہا کہ وہ ایسی جنگ بندی کو ترجیح دیں گی جس میں لوگوں کی جانیں نہ جائیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ روس موجودہ اعلان کی پابندی کرے گا یا نہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران انہیں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے جن سے ثابت ہو کہ روس توانائی جنگ بندی کا احترام کر رہا ہے۔ یورپی رہنماؤں کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے اعلان کے بجائے اس پر عملی عمل درآمد اور واضح ضمانتوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔
توانائی جنگ بندی کے تنازعے کے ساتھ روسی ڈیزل کی فراہمی کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل خریدنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا، جس پر یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جس سے امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی ریپبلکن پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم، یوکرین کا مؤقف ہے کہ روسی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ اسی وقت قابلِ قبول ہوسکتا ہے جب ماسکو بھی یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بنانا بند کرے۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز زیلنسکی پر روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کے لیے سخت دباؤ ڈالا اور یوکرین میں نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کیا۔ یوکرین میں 2022 میں روسی حملے کے بعد جنگی حالات کے باعث انتخابات معطل ہیں۔ زیلنسکی نے جواب دیا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 60 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں تو وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کے مستقبل کے رہنما کا انتخاب کرنا یوکرینی عوام کا حق ہے۔
امریکا اور یوکرین کے تعلقات پر دباؤ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ صورت حال سے واقف ایک شخص کے مطابق، امریکی حکام نے کیف پر دباؤ ڈالنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور یوکرین کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کے نظام کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔ اس نظام کو ترجیحی یوکرین ضروریات فہرست یا PURL کہا جاتا ہے، جس کے تحت یورپی ممالک یوکرین کی ضروریات کے مطابق امریکی ہتھیار خریدتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا نے براہ راست ہتھیاروں کی فراہمی بڑی حد تک روک دی ہے، جبکہ یورپی ممالک کے ذریعے دفاعی سامان کی خریداری کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ جرمنی کے وزیر برائے یورپی امور گونتر کرخباوم نے توقع ظاہر کی کہ امریکا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہے گا۔
ٹرمپ اس سے قبل ستمبر کے وسط میں بھی روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کا اعلان کرچکے تھے، لیکن اس وقت بھی دونوں فریقوں نے ایسے کسی باقاعدہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ موجودہ صورت حال میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں، ان پر عمل درآمد کی نگرانی کون کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
زیلنسکی نے عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ بھی عالمی توانائی منڈی پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق، دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے اس تنازعے کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کا معاملہ محض فوجی حملوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں عالمی ایندھن کی قیمتیں، امریکی داخلی سیاست، روس کے خلاف پابندیاں اور مغربی اتحادیوں کے درمیان اعتماد جیسے مسائل بھی شامل ہوگئے ہیں۔
12 اکتوبر 2026 تک صورت حال یہ ہے کہ یوکرین روس سے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ کررہا ہے، امریکا جنگ بندی کے اعلان کے ذریعے توانائی کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ یورپی یونین نے روس کی فوجی صنعت پر تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے۔ تاہم، روس کی جانب سے جنگ بندی کی باضابطہ تصدیق نہ ہونے اور خارکیف میں تازہ حملوں کے بعد اس اعلان کی عملی حیثیت غیر واضح ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکا معاہدے کی شرائط واضح کروا پاتا ہے اور روس و یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے کسی قابلِ تصدیق انتظام پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔
Stay informed with the latest national and international news.
© 2026. All rights reserved.
