برطانوی معیشت میں اگست کے دوران 0.1 فیصد اضافہ، پیش گوئیاں غلط ثابت
برطانیہ کی معیشت اگست 2026 میں 0.1 فیصد بڑھی، جبکہ سالانہ شرح نمو 2.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں نے معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
Raja Awais Ali
10/15/20261 min read


برطانیہ کی معیشت نے اگست میں توقعات کو مات دے دی، جی ڈی پی میں 0.1 فیصد اضافہ
برطانیہ کی معیشت نے اگست 2026 میں توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین اقتصادیات نے اس عرصے کے دوران 0.1 فیصد کمی کی پیش گوئی کی تھی، لیکن سرکاری اعداد و شمار نے اس کے برعکس نمو ظاہر کی۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت آئندہ بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور اسے عوامی مالیات اور معاشی ترقی کے حوالے سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات (ONS) کے مطابق، اگست میں سالانہ بنیاد پر GDP میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جو اکتوبر 2022 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ تاہم، اکتوبر 2022 میں کووڈ-19 وبا کے بعد معاشی بحالی جاری تھی۔ اس عرصے کو الگ رکھا جائے تو یہ دسمبر 2019 کے بعد بلند ترین سالانہ شرح نمو ہے۔
ماہانہ بنیاد پر اگست کی ترقی جولائی کے مقابلے میں سست رہی، جب معیشت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ جون کی شرح نمو کو بھی نظرثانی کے بعد 0.4 فیصد کردیا گیا، جو پہلے 0.3 فیصد بتائی گئی تھی۔ تین ماہ سے اگست تک برطانیہ کی معیشت میں مجموعی طور پر 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تین ماہ سے جولائی تک کی شرح نظرثانی کے بعد 0.5 فیصد رہی۔
اگست میں معاشی نمو کا بنیادی محرک صنعتی پیداوار تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پیداوار کے شعبے میں ماہانہ بنیاد پر 0.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مینوفیکچرنگ کی پیداوار 1.2 فیصد بڑھی۔ مینوفیکچرنگ میں اضافے کی ایک اہم وجہ دواسازی کی مصنوعات اور ادویات کی تیاری رہی، جس میں 5.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کمپیوٹر، الیکٹرانک اور آپٹیکل مصنوعات سمیت متعدد صنعتی شعبوں نے بھی مجموعی پیداوار میں حصہ ڈالا۔
اس کے برعکس، خدمات کے شعبے کی پیداوار اگست میں جمود کا شکار رہی۔ اس کے باوجود نتیجہ ماہرین کی اس پیش گوئی سے بہتر تھا جس میں خدمات کی پیداوار میں 0.1 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ تعمیراتی شعبے کی پیداوار میں ماہانہ بنیاد پر 0.2 فیصد کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں بہتری نہیں آئی۔
ٹیکنالوجی سے متعلق سرگرمیاں بھی برطانوی معیشت کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تین ماہ سے اگست تک کمپیوٹر پروگرامنگ اور متعلقہ سرگرمیاں معاشی نمو میں سب سے بڑا انفرادی حصہ ڈالنے والے شعبوں میں شامل رہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ڈیجیٹل خدمات کی توسیع اس شعبے کی کارکردگی کے تناظر میں قابل توجہ ہیں، تاہم مجموعی اعداد و شمار سے AI کے الگ معاشی اثرات کی مکمل پیمائش نہیں کی جاسکتی۔
برطانیہ کی معیشت میں خدمات کا شعبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی کارکردگی مجموعی ترقی کے لیے اہم ہے۔ تین ماہ سے اگست تک خدمات کی پیداوار میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں صنعتی پیداوار 0.2 فیصد کم ہوئی اور تعمیراتی پیداوار میں 1.0 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح، ماہانہ اعداد و شمار میں صنعتی شعبے کی مضبوط کارکردگی کے باوجود تین ماہ کے مجموعی نتائج میں مختلف شعبوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔
معیشت کی توقعات سے بہتر کارکردگی حکومت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اس سے معاشی مشکلات کے خاتمے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر خزانہ جان ہیلی کو بجٹ تیار کرتے وقت معاشی ترقی، سرکاری قرضوں اور مالیاتی دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں خدمات، صنعت اور تعمیرات کی کارکردگی اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگی کہ برطانوی معیشت اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
مجموعی طور پر، اگست میں برطانیہ کی GDP میں 0.1 فیصد اضافہ ماہرین کی توقعات کے برعکس رہا۔ صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی سے وابستہ سرگرمیوں نے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا، تاہم تعمیراتی شعبے میں کمی اور خدمات کی ماہانہ جمود کی کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ معیشت کی بحالی ابھی تمام شعبوں میں یکساں نہیں ہے۔
Stay informed with the latest national and international news.
© 2026. All rights reserved.
