سعودی عرب کا وارننگ سسٹم خاموش، ریاض ایئرپورٹ حملوں میں 18 ہلاک

سعودی عرب میں ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی۔ عوامی وارننگ سسٹم کی خاموشی، سیکیورٹی خدشات اور حکومتی ردعمل کی تفصیلات۔

Raja Awais Ali

10/13/20261 min read

سعودی عرب کا وارننگ سسٹم خاموش، ریاض ایئرپورٹ پر مہلک حملوں کے بعد سیکیورٹی پر سوالات

سعودی عرب میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے مہلک میزائل حملوں کے بعد ملک کے قومی وارننگ سسٹم کی کارکردگی اور عوام کو بروقت خبردار نہ کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ حکام نے اب تک واضح نہیں کیا کہ خطرے کے باوجود عوام کو حملوں سے پہلے الرٹس کیوں جاری نہیں کیے گئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا خطرہ بڑھ رہا تھا۔

سعودی عرب نے مئی 2026 میں قومی ابتدائی وارننگ سسٹم کے ذریعے موبائل فونز اور سوشل میڈیا پر ممکنہ فوجی خطرات سے متعلق انتباہات جاری کرنا شروع کیے تھے۔ اس نظام کا مقصد شہریوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں حفاظتی اقدامات کرنے کا موقع دینا تھا۔ تاہم، سعودی سول ڈیفنس کے سوشل میڈیا ریکارڈ کے مطابق، فوجی خطرے سے متعلق آخری عوامی الرٹ 29 ستمبر کو جنوبی صوبے نجران کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حملوں میں اضافے کے باوجود عوامی وارننگز کا سلسلہ رک گیا، حالانکہ گزشتہ ہفتے ریاض کے ایئرپورٹ کو چار حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

علاقے میں موجود چار مغربی اور عرب حکام اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وارننگز کی عدم موجودگی نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور شہریوں، مسافروں اور غیر ملکیوں کو محفوظ رکھنے کی حکومتی کوششوں کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔ دو مغربی حکام نے بتایا کہ حملوں سے پہلے ایک اتحادی مغربی حکومت کے اہلکاروں نے سعودی حکام سے پوچھا تھا کہ عوامی الرٹس کیوں بند کر دیے گئے ہیں۔ ان حکام کے مطابق، جواب میں بتایا گیا کہ الرٹس لوگوں کے لیے خلل کا باعث بن رہے تھے اور متعدد شہریوں نے شکایت کی تھی کہ رات کے وقت انتباہات سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ تاہم، سعودی حکومت نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی حکومتی میڈیا دفتر نے اس بارے میں بھیجے گئے سوالات کا جواب دیا۔

امریکہ میں مقیم سعودی محقق اور مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر ریزیڈنٹ فیلو سلطان العامر کے مطابق، سعودی حکومت ایک طرف فوجی کارروائیوں کا جواب دینا چاہتی ہے اور دوسری طرف عوام اور بیرونی سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد بھی دینا چاہتی ہے کہ ملک میں معمولات زندگی برقرار ہیں۔ سابق امریکی سفیر برائے سعودی عرب مائیکل ریٹنی نے بھی کہا کہ ریاض حوثیوں کے حملوں کا جواب دینے اور معاشرتی زندگی میں خلل سے بچنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق، عوام کو آنے والے حملوں کے بارے میں خبردار نہ کرنا اسی بے چینی کو بڑھا سکتا ہے جس سے حکومت بچنا چاہتی ہے۔

خلیجی خطے کے دیگر ممالک نے عوامی انتباہات کے معاملے میں مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ قطر کی وزارت داخلہ نے متعدد حملوں سے پہلے موبائل فون الرٹس جاری کیے، جن میں شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔ بحرین اور کویت میں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے سائرن بجائے جاتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، سعودی عرب میں عوامی فوجی الرٹس کی بندش نے حملوں کے دوران شہریوں کو پیشگی خبردار کرنے کے نظام پر مزید سوالات پیدا کیے۔

عوامی الرٹس بند ہونے کے باوجود ریاض میں مغربی سفارت خانے اپنے عملے کو میزائل اور ڈرون خطرات کے بارے میں اندرونی انتباہات جاری کرتے رہے۔ اس معاملے سے واقف تین افراد کے مطابق، یہ اطلاعات امریکی اور دیگر مغربی حکومتوں کی انٹیلی جنس اور سعودی حکام سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی جاتی تھیں۔ سفارتی عملے کو گزشتہ ہفتے ایئرپورٹ پر ہونے والے ابتدائی حملوں کے دوران بھی الرٹس موصول ہوئے تھے، لیکن ان افراد کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے سب سے مہلک حملے سے پہلے سفارت خانوں کو بھی کوئی اندرونی انتباہ نہیں ملا۔ حکام اس کی وجہ معلوم نہیں کر سکے۔

سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ ملک کے وسیع رقبے اور اہم تنصیبات کی تعداد کے باعث تمام مقامات کو بیک وقت محفوظ رکھنا ایک بڑا دفاعی چیلنج ہے۔ ان کے مطابق، سعودی عرب میں ایئرپورٹس، پائپ لائنز اور تیل کی تنصیبات سمیت بہت سے اہم اہداف موجود ہیں، جبکہ دستیاب پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، انٹرسیپٹرز اور میزائل بیٹریاں ہر مقام کو بیک وقت تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو فضائی دفاع کی مسلسل اور وسیع ضرورت ہے۔

حملوں کے باوجود سعودی عرب نے پیر کو ریاض میں ورلڈ پیٹرولیم کونسل انرجی کانگریس کی میزبانی جاری رکھی، اگرچہ تیل کی صنعت سے وابستہ کئی بڑے عہدیداروں نے تقریب میں شرکت منسوخ کر دی۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں منعقد ہونے والی تقریب کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوا کہ حکومت سیکیورٹی خدشات کے باوجود اقتصادی منصوبوں اور بین الاقوامی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پیر کو سعودی سول ڈیفنس نے 29 ستمبر کے بعد پہلی مرتبہ ریاض اور جنوبی شہروں میں ممکنہ خطرات سے متعلق عوامی انتباہات جاری کیے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اسی روز ریاض میں النصر اور نیفتچی فرغانہ کے درمیان ایشین چیمپئنز لیگ کا میچ بھی بیلسٹک میزائل خطرے کے باعث ایک گھنٹے کے لیے مؤخر ہوا۔ بعد میں اطلاع دی گئی کہ دو میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا اور خطرہ کم ہونے کے بعد میچ شروع کر دیا گیا۔ تاہم، حکام نے واضح نہیں کیا کہ دوبارہ الرٹس جاری کرنے کا فیصلہ ایئرپورٹ حملوں کے براہ راست ردعمل میں کیا گیا تھا یا نہیں۔

سعودی سول ڈیفنس نے اس دوران بارش اور سیلاب جیسے موسمی خطرات سے متعلق معمول کی ہدایات بھی جاری رکھیں۔ حکام نے شہریوں کو میزائلوں کی روک تھام، حملوں کے مقامات اور نقصانات سے متعلق تصاویر، افواہیں یا معلومات شیئر نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی۔ مارچ میں جاری کیے گئے حکومتی ضوابط کے تحت اس قسم کی معلومات کے پھیلاؤ پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ان ضوابط کی خلاف ورزی پر کسی شخص کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں۔

ریاض ایئرپورٹ پر حملوں اور عوامی وارننگز کی بندش نے سعودی عرب کے لیے ایک اہم مسئلہ سامنے رکھا ہے: ملک کو ایک طرف بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کرنا ہے اور دوسری طرف عوامی اعتماد، شہریوں کی حفاظت اور معمولات زندگی برقرار رکھنے ہیں۔ سعودی حکام نے اب تک یہ وضاحت نہیں کی کہ حملوں سے پہلے عوام کو بروقت خبردار کیوں نہیں کیا گیا۔ اس سوال کا جواب اور مستقبل میں وارننگ سسٹم کی قابل اعتماد کارکردگی ہی اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ ایسے خطرات کے دوران شہریوں کو بہتر تحفظ کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔

Stay informed with the latest national and international news.

© 2026. All rights reserved.