سعودی عرب میں حوثی حملے، یورپی یونین اور خلیجی ممالک کی سربراہی کانفرنس ملتوی
سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کی 24 اکتوبر 2026 کو ریاض میں ہونے والی سربراہی کانفرنس ملتوی ہوگئی۔ ریاض ایئرپورٹ کی بندش، 13 ہلاکتوں اور اجلاس کی نئی تاریخ سے متعلق تفصیلات پڑھیں۔
Raja Awais Ali
10/15/20261 min read


سکیورٹی خدشات کے باعث سعودی عرب میں یورپی یونین اور خلیجی ممالک کی سربراہی کانفرنس ملتوی
یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 24 اکتوبر 2026 کو ہونے والی مشترکہ سربراہی کانفرنس ملتوی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کو مسلسل دھمکیوں اور حملوں کے بعد فضائی سفر سے متعلق بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
خلیج تعاون کونسل نے جمعرات، 15 اکتوبر کو کانفرنس ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو لاحق خطرات اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سرگرمیوں کی طویل معطلی کا حوالہ دیا۔ یورپی یونین نے التوا کی مخصوص وجہ بیان نہیں کی، تاہم کہا کہ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں میں 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حملوں کے بعد ہوائی اڈہ بند ہے، جبکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے اعلیٰ حکام اور سفارتی شخصیات کی آمد بھی اسی ہوائی اڈے کے ذریعے متوقع تھی۔
یہ اجلاس سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ یورپی یکجہتی کے اظہار اور دونوں خطوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا۔ کانفرنس کا ملتوی ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال نے سعودی عرب کی بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ خلیجی خطے کے ساتھ تعلقات اس کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ تاہم، مشترکہ سربراہی کانفرنس کے انعقاد کی نئی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔
Stay informed with the latest national and international news.
© 2026. All rights reserved.
