آئی ایم ایف کا امریکا سے بجٹ خسارہ کم کرنے اور چین کو ملکی کھپت بڑھانے کا مطالبہ

آئی ایم ایف نے امریکا سے بجٹ خسارہ اور سرکاری قرضے کم کرنے، چین کو ملکی کھپت بڑھانے اور یورپ کو سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کا مشورہ دیا۔ بانڈ ییلڈز، عالمی قرضوں اور غریب ممالک پر مالی دباؤ کی مکمل تفصیل۔

Raja Awais Ali

10/14/20261 min read

آئی ایم ایف کا امریکا سے بجٹ خسارہ کم کرنے اور چین کو برآمدات کے بجائے ملکی کھپت بڑھانے کا مطالبہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے ٹیکسوں اور سرکاری اخراجات میں ضروری تبدیلیاں کرے، جبکہ چین کو برآمدات پر انحصار کم کرکے ملکی کھپت بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ مطالبات 14 اکتوبر 2026 کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران سامنے آئے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضوں، بانڈ ییلڈز، عالمی تجارتی عدم توازن اور مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ امریکا صرف مضبوط معاشی ترقی کے ذریعے اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں اور بجٹ خسارے کو مطلوبہ رفتار سے کم نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، معاشی نمو مددگار ضرور ہے، لیکن مالیاتی استحکام کے لیے اضافی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جارجیوا نے کہا کہ امریکی حکام معاشی ترقی پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم قرضوں کو پائیدار سطح پر لانے کے لیے ٹیکسوں یا سرکاری اخراجات سے متعلق فیصلے کرنا ہوں گے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ امریکا کے بجٹ خسارے اور سرکاری قرضوں کی سطح زیادہ ہے اور انہیں طویل مدت میں پائیدار بنانا ضروری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ معاشی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیتی رہی ہے، جبکہ ریپبلکنز نے گزشتہ سال بڑے پیمانے پر ٹیکس کٹوتیاں منظور کی تھیں۔ بیسنٹ بنکاک میں جاری سالانہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے اور انہوں نے امریکا میں اپنی مصروفیات کو ترجیح دی، جہاں وسط مدتی انتخابات کی مہم بھی جاری ہے۔

جارجیوا نے امریکا اور یورپی ممالک کو ترقی یافتہ معیشتوں میں زیادہ قرضوں کے حوالے سے نمایاں مثالیں قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑی معیشتوں میں قرض لینے کی لاگت بڑھنے سے کم آمدنی والے ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، جنہیں مالیاتی منڈیوں کے دباؤ کے باعث اپنے قرضوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے شعبۂ مالیاتی امور کے سربراہ روڈریگو والڈیز نے کہا کہ مہنگائی، بلند قرضوں اور بڑھتی ہوئی بانڈ ییلڈز نے حکومتوں کے لیے مالیاتی گنجائش محدود کر دی ہے۔ بانڈ ییلڈز میں اضافہ حکومتوں کے لیے نئے قرضے حاصل کرنے اور پرانے قرضوں کی تجدید کو مہنگا کر سکتا ہے۔ والڈیز کے مطابق، ان حالات کے پیش نظر آئی ایم ایف نے بجٹ خسارے اور قرضوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر مزید زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی 14 اکتوبر کو جاری ہونے والی فِسکل مانیٹر رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ بلند قرض لاگت کے دور میں مالیاتی اصلاحات مؤخر کرنے سے مستقبل میں قرضوں کو قابو کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومتوں کو اپنے اخراجات اور آمدنی میں ایسا توازن پیدا کرنا ہوگا جس سے قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ضروری عوامی خدمات بھی جاری رکھی جا سکیں۔

چین کے حوالے سے جارجیوا نے کہا کہ تجارتی سرپلس رکھنے والے ممالک کو ملکی کھپت بڑھانی چاہیے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ چین ریکارڈ تجارتی سرپلس کی جانب بڑھ رہا ہے۔ امریکا کو تشویش ہے کہ چین کی اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت اور برآمدات عالمی منڈیوں میں عدم توازن پیدا کر رہی ہیں۔ واشنگٹن نے اپنی گروپ آف 20 (جی 20) صدارت کے دوران اتحادیوں کو چین کی ان معاشی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ اقدامات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں وہ غیر منڈی پر مبنی قرار دیتا ہے۔

جارجیوا نے تین بڑی معیشتوں کے لیے ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ چین کو زیادہ خرچ کرنے، امریکا کو اپنی بچت بڑھانے اور یورپ کو مسابقت بہتر بنانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی ترقی میں گھریلو صارفین کے اخراجات اور اندرونی طلب کا کردار بڑھایا جائے، جبکہ امریکا کو اپنے مالیاتی عدم توازن پر قابو پانے اور یورپی ممالک کو اپنی پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں مقابلے کی استعداد بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

جی 20 کے وزرائے خزانہ کی ملاقات جمعرات کو بنکاک اجلاسوں کے موقع پر طے تھی۔ امریکی وزیر خزانہ کی عدم شرکت کے باوجود چین کی تجارتی پالیسی اور عالمی معاشی عدم توازن اجلاسوں کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔

آئی ایم ایف نے کم آمدنی والے اور بحرانوں سے متاثرہ ممالک کے لیے مالی امداد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ جارجیوا نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آئی ایم ایف کے ان پروگراموں کو مکمل مالی وسائل فراہم کریں جو غریب اور کمزور معیشتوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان میں Poverty Reduction and Growth Trust شامل ہے، جو کم آمدنی والے ممالک کو کم یا صفر شرح سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔ دوسرا پروگرام Catastrophe Containment and Relief Trust ہے، جو انتہائی غریب اور کمزور رکن ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور بعض حالات میں قرضوں کی منسوخی کے لیے گرانٹس فراہم کرتا ہے۔

جارجیوا کے مطابق، ان ممالک کی سرکاری آمدنی کا اوسطاً 14 فیصد حصہ اب قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ ایک دہائی پہلے یہ شرح 6 فیصد تھی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان ممالک کے مجموعی قرضوں کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے، لیکن بلند بانڈ ییلڈز نے قرضوں کی ادائیگی کو زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ جارجیوا نے خبردار کیا کہ عالمی معاشی ترقی میں بڑھتا ہوا فرق ان ممالک کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے جو پہلے ہی ترقی کے معاملے میں پیچھے ہیں۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والی معاشی خلیج بھی اجلاسوں میں زیر بحث رہی۔ آئی ایم ایف نے اپنی اقتصادی پیش گوئیوں میں اس فرق کی نشاندہی کی تھی کہ ترقی یافتہ ممالک اے آئی میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ کمزور معیشتیں اس عمل سے پیچھے رہ سکتی ہیں۔ بلند قرضوں اور ان کی ادائیگی کے اخراجات کے باعث ان ممالک کے لیے نئی ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی معاشی استحکام کے لیے امریکا کو قرضوں اور بجٹ خسارے پر قابو پانے، چین کو ملکی کھپت بڑھانے اور یورپ کو مسابقت کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ کم آمدنی والے ممالک کے لیے مالی امداد کی فراہمی بھی اہم ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قرض لاگت اور اے آئی کے فوائد میں فرق عالمی معاشی عدم مساوات کو مزید نہ بڑھائے۔

Stay informed with the latest national and international news.

© 2026. All rights reserved.